New Questions
شوہر کے انتقال پر میت اٹھانے سے پہلے بیوی سے مہر معاف کروانا
سوال
ہمارے گاؤں میں جب کوئی مردوفات پا جاتا ہے تو میت کو اٹھانے سے پہلے اس کی بیوی کو میت کے پاس لایا جاتا ہے ، پھر مرحوم کے رشتہ دار اس سے کہتے ہیں کہ تم اپنا مہر معاف کر دو، اس پر بیوی مہر کی رقم معاف کر دیتی ہے ، اس وقت چونکہ عورت کا دل نرم ہوتا ہے اس لیے اپنی رضامندی سے معاف کرتی ہے ، کیا اس طرح مہر معاف کرنے سے وہ واقعہ معاف ہو جاتا ہے ؟ اور اس حالت میں شریعت کے اندر مہر معاف کروانے کی کوئی درست صورت موجود ہے ؟ اگر ہے تو تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو اور شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس عورت کا حق مہر شوہر کے ذمہ واجب الادا قرضہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کے ذمہ باقی رہتا ہے ، پھر اگر کسی علاقے میں یہ رسم ہو کہ شوہر کے انتقال کے موقع پر عورت سے اس کا مہر معاف کروایا جاتا ہو تو یہ رسم قابل ترک ہے ، ایسے موقع پر مہر کی معافی کا مطالبہ کرنا کسی طرح مناسب نہیں بلکہ اس شدید غم اور دباؤ کے ماحول میں معاف کروانا ہی جائز نہیں اور مہر معاف نہ ہوگا۔
میں نے آج تمہیں ہر رشتہ سے آزاد کیا کہنے کا حکم
سوال
میرے نکاح کو تقریبا ایک سال ہو گیا ، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی، میں نے لڑائی کی وجہ سے واٹس ایپ پر اپنی بیوی کو یہ میسج کیا ہے ، جس کے بارے میں سسرال والے کہتے ہیں ، کہ اگلے مہینے کو دوسری اور تیسرے مہینے کو تیسری طلاق واقع ہوتی ہے ۔ آپ حکم واضح کریں کہ اس کا کیا حکم ہے ، میسج کے الفاظ یہ ہیں ۔ " آج کے بعد مجھے کال میسج نہیں کرنا، میں تمہارے ساتھ اب ایک منٹ نہیں رہنا چاہتا ، آج سے پہلے جب تمہارا دل کرتا تو رشتہ ختم کرنے کی بولتی، آج میں بول رہا ہوں ہمارا کوئی رشتہ نہیں ، میں نے آج تمہیں آزاد کیا ہر رشتہ سے ، مجھے نہیں رہنا اب تمہارے ساتھ ، جا سکتی ہو تم ، جو بھی رشتہ تھا وہ اب تم شوق سے ختم کر لینا ، آزاد کیا تمہیں ".
جواب
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی منکوحہ جو یہ یہ میسج کیا ہے کہ ” میں نے آج تمہیں آزاد کیا ہر رشتہ سے ” ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے ، نکاح ختم ہو چکا ہے ، اب سائل کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے ۔ البتہ ان الفاظ سے آئندہ مہینوں میں مزید دوسری یا تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
البتہ اگر دونوں (سائل اور مطلقہ عورت) آپس میں رضامندی سے دوبارا نکاح کرنا چاہیں، تو نئے مہر اور شرعی گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر کے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں ، اور آئندہ کے لئے سائل (شوہر) کو صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت خاتم النبیین ہونا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے
سوال
کیا یہ حدیث احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ؟
رہنمائی فرمائیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں اللہ تعالی کے نزدیک اس وقت ہی خاتم النبین بن چکا تھا جس وقت حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے گارے کی شکل میں تھے ۔
رہنمائی فرمائیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ میں اللہ تعالی کے نزدیک اس وقت ہی خاتم النبین بن چکا تھا جس وقت حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے گارے کی شکل میں تھے ۔
جواب
جس روایت کے بارے میں آپ نے دریافت کیا ہے ، وہ ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے
” عن عرباض بن سارية، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إني عبد الله الخاتم النبيين، وإن آدم عليه السلام لمنجدل في طينته، وسأنبئكم بأول ذلك دعوت أبي إبراهيم، وبشارة عيسى بي، ورؤيا أمي التي رأت، وكذلك أمهات النبيين ترأين”.
(مسند أحمد، الإمام أحمد ابن حنبل، مسند عرباض بن سارية، ط: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ – 2001م،
ترجمه :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” میں اللہ کا بندہ اس وقت خاتم النبیین تھا جب کہ آدم مٹی پر تھے ، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں شروع میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں ، عیسی نے میری بشارت سنائی ، عیسی نے میرے آنے کی خوشخبری سنائی ، اور میں اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جو اس نے دیکھا ، اور انبیا کی مائیں اسی طرح خوب دیکھتی ہیں “۔
امام حاکم نے اس رویت کو “مستدرک ” میں ذکر کر کے اس کو ” صحیح ” کہا ہے، اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے :
” عن العرباض بن سارية، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إني عند الله في أول الكتاب الخاتم النبيين وأن آدم لمنجدل في طينته، وسأنبئكم بتأويل ذلك دعوة أبي إبراهيم وبشارة عيسى قومه، ورؤيا أمي التي رأت أنه خرج منها نور
أضاءت له قصور الشام”.