New Questions

شوہر کے انتقال پر میت اٹھانے سے پہلے بیوی سے مہر معاف کروانا

سوال

جواب

اگر شوہر نے بیوی کا حق مہر ادا نہ کیا ہو اور شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس عورت کا حق مہر شوہر کے ذمہ واجب الادا قرضہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کے ذمہ باقی رہتا ہے ، پھر اگر کسی علاقے میں یہ رسم ہو کہ شوہر کے انتقال کے موقع پر عورت سے اس کا مہر معاف کروایا جاتا ہو تو یہ رسم قابل ترک ہے ، ایسے موقع پر مہر کی معافی کا مطالبہ کرنا کسی طرح مناسب نہیں بلکہ اس شدید غم اور دباؤ کے ماحول میں معاف کروانا ہی جائز نہیں اور مہر معاف نہ ہوگا۔

میں نے آج تمہیں ہر رشتہ سے آزاد کیا کہنے کا حکم

سوال

جواب

صورت مسئولہ میں سائل نے اپنی منکوحہ جو یہ یہ میسج کیا ہے کہ ” میں نے آج تمہیں آزاد کیا ہر رشتہ سے ” ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو چکی ہے ، نکاح ختم ہو چکا ہے ، اب سائل کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے ۔ البتہ ان الفاظ سے آئندہ مہینوں میں مزید دوسری یا تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
البتہ اگر دونوں (سائل اور مطلقہ عورت) آپس میں رضامندی سے دوبارا نکاح کرنا چاہیں، تو نئے مہر اور شرعی گواہان کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر کے میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں ، اور آئندہ کے لئے سائل (شوہر) کو صرف دو طلاق کا اختیار ہوگا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس وقت خاتم النبیین ہونا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام مٹی اور پانی کے درمیان تھے

سوال

جواب

جس روایت کے بارے میں آپ نے دریافت کیا ہے ، وہ ان الفاظ کے ساتھ مذکور ہے 

” عن عرباض بن سارية، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إني عبد الله الخاتم النبيين، وإن آدم عليه السلام لمنجدل في طينته، وسأنبئكم بأول ذلك دعوت أبي إبراهيم، وبشارة عيسى بي، ورؤيا أمي التي رأت، وكذلك أمهات النبيين ترأين”.
(مسند أحمد، الإمام أحمد ابن حنبل، مسند عرباض بن سارية، ط: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ – 2001م،

ترجمه :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : ” میں اللہ کا بندہ اس وقت خاتم النبیین تھا جب کہ آدم مٹی پر تھے ، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں شروع میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں ، عیسی نے میری بشارت سنائی ، عیسی نے میرے آنے کی خوشخبری سنائی ، اور میں اپنی ماں کا وہ خواب ہوں جو اس نے دیکھا ، اور انبیا کی مائیں اسی طرح خوب دیکھتی ہیں “۔
امام حاکم نے اس رویت کو “مستدرک ” میں ذکر کر کے اس کو ” صحیح ” کہا ہے، اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے :
” عن العرباض بن سارية، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إني عند الله في أول الكتاب الخاتم النبيين وأن آدم لمنجدل في طينته، وسأنبئكم بتأويل ذلك دعوة أبي إبراهيم وبشارة عيسى قومه، ورؤيا أمي التي رأت أنه خرج منها نور
أضاءت له قصور الشام”.

 

Translate »
Scroll to Top